ابنا: محمد رضا رحیمی نے کینڈا کی جانب سے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کینڈا صہیونیوں کا تابع ہے اور تہران میں اوٹاوا کا اپنا سفارتخانہ بند کرنا تہران میں ناوابستہ تحریک کے کامیاب اجلاس اس کے غصے کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ تہران میں کینڈا کے سفارتخانے کے بند ہونے سے تہران کو فائدہ ہوا ہے کیونکہ یہ سفارتخانہ علاوہ اخراجات کے کسی اور فائدہ کا باعث نہیں تھا۔ ادھر اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے کہا ہے کہ کینڈا کے وزیر خارجہ نے بان کی مون کو باضابطہ خط بھیج کر انہیں تہران اجلاس میں شرکت کرنے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔ علی اکبر صالحی نے آج پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ تہران میں ناوابستہ تحریک کے اجلاس سے قبل مغرب نے اس اجلاس کے خلاف منفی ماحول بنارکھا تھا اور کینڈا نے نہ صرف اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بلکہ بہت سے ملکوں کو اس اجلاس میں شرکت کرنے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ ناوابستہ تحریک کے اجلاسوں میں مشرقی بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت بتایا جاتا تھ لیکن تہران اجلاس میں قدس شریف کو فلسطین کا دارالحکومت قراردیا گيا ہے جو کہ ایک بنیادی تبدیلی ہے۔
.....
/169